مکمل تفصیلات

ساہیوال میں نہری پانی چوری کے خلاف محکمہ آبپاشی کی کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ مقامی آبپاشی حکام کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 294 کسانوں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان میں قادرباد کے Saif Power Plant کے بعض اہلکار، سیاسی جماعتوں کے عہدیدار اور کسان تنظیموں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ یہ کارروائی صوبائی حکومت کی ہدایت کے بعد کی گئی، جس نے محکمہ آبپاشی کو پانی چوری کے خلاف سخت اقدام کرنے کا کہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مختلف دیہات میں پانی چوری کے متعدد واقعات سامنے آئے۔ چک 63/5-L میں ایک کسان سادیق پر الزام ہے کہ اس نے موگا توڑ کر نہری پانی اپنے کھیتوں اور دیگر حصے داروں کے کھیتوں کی طرف موڑ دیا۔ چک 62/5-L میں محمد زوار، عبدالرزاق، ریاض، شاکر اور منظور پر الزام ہے کہ انہوں نے پانی کا موگا نقصان پہنچا کر پانی چوری کیا اور اسے ساتھی حصے داروں تک پہنچایا۔ اسی طرح چک 61/5-L میں محمد یعقوب، محبوب عالم اور فلاح شیر پر بھی موگا توڑنے کا الزام ہے۔

تاریخ: رپورٹ 29 اکتوبر 2026، 15:07 PKT کو شائع ہوئی۔
مقام: ساہیوال، پنجاب۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040603/294-sahiwal-farmers-booked-for-water-theft-in-five-months

عوامی اثرات

نہری پانی پنجاب کے زرعی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے پانی چوری صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ فصلوں، حصے داری اور دیہی معیشت سے جڑا حساس معاملہ ہے۔ جب ایک طرف کچھ لوگ موگا توڑ کر پانی موڑ لیتے ہیں تو دوسرے کسانوں کے حصے کا پانی کم ہو جاتا ہے، اور اس کا براہِ راست اثر پیداوار، جھگڑوں اور اعتماد پر پڑتا ہے۔

ساہیوال جیسے زرعی علاقے میں یہ مسئلہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہاں نہری تقسیم پر معمولی بے ضابطگی بھی بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔ 294 مقدمات درج ہونا اس بات کی علامت ہے کہ محکمہ اب نرم رویہ چھوڑ کر سختی دکھا رہا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی منصفانہ اور مستقل ہوگی یا صرف وقتی دباؤ تک محدود رہے گی؟

عمل یا حل

اس خبر کا فوری مطلب یہ ہے کہ نہری پانی سے متعلق خلاف ورزیوں پر اب نظر رکھی جا رہی ہے اور مقامی سطح پر گرفتاریوں، مقدمات اور تفتیش کا دائرہ بڑھ سکتا ہے۔ کسانوں، حصے داروں اور متعلقہ آبپاشی عملے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانی کی تقسیم کے قانونی طریقہ کار کی پابندی کریں، موگوں اور نہری ڈھانچے کو نقصان نہ پہنچائیں، اور تنازع کی صورت میں سرکاری چینل سے رجوع کریں۔

دوسری طرف حکومت اور محکمہ آبپاشی کے لیے بھی امتحان یہی ہے کہ کارروائی صرف کاغذی نہ رہے بلکہ شفاف، غیر جانبدار اور مستقل ہو۔ اگر پانی چوری واقعی روکنی ہے تو نگرانی، شکایتی نظام، اور مقامی سطح پر جوابدہی مضبوط کرنا ہوگی۔ سوال یہ ہے: کیا پنجاب میں نہری پانی کی منصفانہ تقسیم اب واقعی محفوظ بن سکے گی، یا طاقتور لوگ پھر بھی نظام کو چکمہ دے جائیں گے؟