مکمل تفصیلات

ایران نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگر امریکا کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یہ پہلی لڑائی سے زیادہ لمبی چل سکتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر Donald Trump نے اشارہ دیا کہ امریکا کو ایران میں باقی رہ جانے والے اہداف پر کارروائی کرنی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق فوج کے ترجمان Mohammad Akraminia نے کہا کہ ممکنہ نئی جنگ میں امریکا نہ تو خاتمے کا وقت طے کر سکے گا اور نہ ہی اس کی شرائط۔

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ روکنے کی سفارتی کوششیں بار بار اس وقت متاثر ہو رہی ہیں جب امریکا اور اسرائیل دوبارہ بمباری کی دھمکیاں دیتے ہیں، اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اہم انتخابات بھی قریب ہیں۔ تصادم کی شدید ترین لہر 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ لبنان اور یمن کے مسلح گروہ بھی اس لڑائی میں شامل ہو گئے۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2041393/iran-warns-new-war-could-last-longer-after-trump-threatens-strikes
تاریخِ اشاعت: 2026-11-02 01:13 PKT
ماخذ: Dawn - Home

عوامی اثرات

اس خبر کا اثر صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں خوف، بے یقینی اور نئی جنگ کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔ جب دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو مزید حملوں کی وارننگ دیں تو اس کا دباؤ سرحدوں کے قریب رہنے والے عام لوگوں، تجارتی راستوں، سفارتی کوششوں اور پہلے ہی عدم استحکام کا شکار خطے پر پڑتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی یہ صورتِ حال اہم ہے، کیونکہ خطے میں کوئی بھی نئی جنگ مہاجرین، تیل کی قیمتوں، سکیورٹی خدشات اور سفارتی صف بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔ لبنان، یمن اور ایران سے جڑی کشیدگی بڑھنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ پورا خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے، جس کے اثرات عام شہریوں کو سب سے پہلے محسوس ہوتے ہیں۔

عمل یا حل

اس مرحلے پر اصل سوال یہ ہے کہ آیا سفارت کاری واقعی آگے بڑھے گی یا پھر دھمکیوں کا سلسلہ نئی جنگ کی راہ ہموار کرے گا۔ اگر امریکا اور ایران کشیدگی کم نہیں کرتے تو خطے میں مزید حملے، جوابی کارروائیاں اور سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے فوری ضرورت یہ ہے کہ فریقین کھلے تصادم کے بجائے مذاکرات، جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے راستے اپنائیں۔

پاکستانی قارئین کے لیے بھی یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی ہر نئی آگ ہمارے خطے تک اثرات لاتی ہے۔ سوال یہ ہے: کیا دنیا ایک اور جنگ کو روکنے کے لیے سنجیدہ ہوگی، یا انتخابات اور طاقت کی سیاست خطے کو مزید آگ میں دھکیل دے گی؟