مکمل تفصیلات

اسلام آباد میں پاکستان اور چین کی کسٹمز انتظامیہ نے سست-خنجراب بارڈر پر گرین چینل کو عملی شکل دینے کے لیے معاہدہ کر لیا۔ یہ معاہدہ جمعرات کے روز فڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں آن لائن دستخط کے ذریعے طے پایا۔ پاکستان کی طرف سے وفد کی قیادت ممبر کسٹمز (آپریشنز) سید شکیل شاہ نے کی، جبکہ چین کی جانب سے لی چنگہوا نے دستخطی عمل کی قیادت کی، جو اُرمچی کسٹمز کے ڈپٹی ہیڈ اور تاشقورغان کسٹمز کے ڈائریکٹر ہیں۔

سرکاری اعلان کے مطابق یہ گرین چینل زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی ایک طے شدہ فہرست کے لیے ہوگا۔ اس کے تحت اہل کھیپوں کو ترجیحی پروسیسنگ اور معائنہ ملے گا، تاہم رسک بیسڈ کسٹمز کنٹرول ختم نہیں ہوں گے بلکہ برقرار رہیں گے۔ معاہدے میں دونوں کسٹمز اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور خطرے کے انتباہات کی شیئرنگ بھی شامل ہے تاکہ سرحدی تعاون مضبوط ہو اور کراس بارڈر تجارت کی نگرانی بہتر بنائی جا سکے۔

تاریخ: جمعرات، 2026-10-29 (رپورٹ شدہ وقت: 20:42 PKT)
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040705/pakistan-china-sign-agreement-to-operationalise-green-channel-at-sost-khunjerab-border

عوامی اثرات

یہ فیصلہ شمالی سرحدی تجارت سے جڑے تاجروں، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور سرحدی لاجسٹکس سے وابستہ کاروباروں کے لیے اہم ہے۔ سست-خنجراب راستے پر زرعی اشیا کی کلیئرنس تیز ہونے سے تاخیر کم ہو سکتی ہے، جس کا اثر سامان کی دستیابی، خراب ہونے والی مصنوعات کے نقصان اور مجموعی تجارتی لاگت پر پڑے گا۔

عام پاکستانیوں کے لیے بھی اس کی اہمیت ہے، کیونکہ سرحدی تجارت میں بہتری کا مطلب آگے چل کر قیمتوں، سپلائی چین اور مارکیٹ میں اشیا کی دستیابی پر مثبت اثر ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان-چین تعلقات میں یہ ایک عملی، زمینی نوعیت کی پیش رفت ہے جو محض بیانات کے بجائے تجارت کو واقعی آسان بنانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل امتحان اس معاہدے پر عملدرآمد ہے، کیونکہ سرحدی معاہدے اکثر کاغذ پر اچھے لگتے ہیں مگر فیلڈ میں رفتار، رابطہ کاری اور شفاف کلیئرنس سب کچھ طے کرتی ہے۔ اگر دونوں کسٹمز ادارے معلومات کا بروقت تبادلہ اور رسک الرٹس شیئر کرتے رہیں تو گرین چینل واقعی تجارت کو تیز کر سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ طے شدہ زرعی مصنوعات کی فہرست کتنی وسیع ہے، کن کھیپوں کو ترجیح ملے گی، اور کاروباری طبقہ اس سہولت سے عملی فائدہ کیسے اٹھاتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا پاکستان-چین تجارت اب واقعی سرحدی رکاوٹوں سے نکل کر رفتار پکڑے گی، یا یہ معاہدہ بھی صرف ایک رسمی اعلان ثابت ہوگا؟