مکمل تفصیلات

پاکستان نے اتوار کے روز باضابطہ طور پر گروپ آف 24 (G-24) کی صدارت سنبھال لی۔ یہ گروپ 1971 میں قائم ہونے والا ایک بین الحکومتی اتحاد ہے، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے درمیان بین الاقوامی مالیاتی اور مانیٹری امور پر مشترکہ حکمتِ عملی بنانا ہے۔ اس موقع پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی طرف سے ترقی پذیر معیشتوں کی آواز کو مضبوط کرنے اور ایک ایسے عالمی مالیاتی ڈھانچے کی حمایت کا عزم ظاہر کیا جو زیادہ جواب دہ، منصفانہ اور ترقی دوست ہو۔

وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق محمد اورنگزیب نے اس ذمہ داری کو “گہری اہمیت” کی حامل قرار دیا اور کہا کہ دنیا کو دوبارہ مضبوط بین الاقوامی تعاون، طاقتور کثیرالجہتی اداروں اور مشترکہ عالمی وعدوں کی ضرورت ہے تاکہ آب و ہوا کے جھٹکوں، ترقیاتی مالی خلا اور عالمی معاشی تقسیم جیسے بڑے مسائل کا سامنا کیا جا سکے۔ وزارت نے ان کے اس مؤقف کو نمایاں کیا کہ ترقی پذیر ممالک کا مستقبل عالمی معیشت کے حاشیے پر نہیں بلکہ اس کے مرکز میں ہے۔

تاریخ: اتوار، 1 نومبر 2026
وقتِ اشاعت: 18:19 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2041369/pakistan-becomes-chair-of-g-24-bloc-of-developing-nations-reaffirms-pledge-to-fairer-global-financial-system
ماخذ: Dawn - Home

عوامی اثرات

اس فیصلے کا اثر صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتا، کیونکہ G-24 وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ترقی پذیر ممالک عالمی مالیاتی اداروں، قرضوں، ترقیاتی فنڈنگ اور اقتصادی پالیسی کے بڑے فیصلوں پر اپنا مشترکہ مؤقف بناتے ہیں۔ پاکستان کی صدارت کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلام آباد کو ان ممالک کی ترجمانی کا موقع ملا ہے جو مہنگے قرضوں، کمزور معیشتوں اور عالمی مالی دباؤ سے گزر رہے ہیں۔

پاکستانی عوام کے لیے بھی یہ خبر اہم ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیاں بالآخر مہنگائی، قرضوں، زرمبادلہ، ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی پالیسی پر اثر ڈالتی ہیں۔ اگر ترقی پذیر ممالک کی آواز مضبوط ہوتی ہے تو اس کا فائدہ پاکستان جیسے ملک کو بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب معاملہ آب و ہوا کے بحران، ترقیاتی فنڈنگ اور عالمی منڈیوں کی سختی کا ہو۔

عمل یا حل

اب اصل امتحان یہ ہے کہ پاکستان اس صدارت کو صرف اعزازی عہدہ نہ رہنے دے بلکہ اسے عملی سفارتی وزن میں تبدیل کرے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کے درمیان ہم آہنگی بڑھے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں انصاف کا دباؤ بڑھے، اور ایسے فیصلے سامنے آئیں جو کمزور معیشتوں کو مزید دبانے کے بجائے سہارا دیں۔

پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ قرض، موسمیاتی نقصانات، ترقیاتی سرمایہ کاری اور عالمی اقتصادی تقسیم جیسے موضوعات پر واضح اور متحد مؤقف لے کر سامنے آئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا G-24 کی یہ قیادت واقعی ترقی پذیر دنیا کے لیے نئی آواز بنے گی، یا عالمی نظام پھر حسبِ معمول طاقتوروں کے حق میں ہی چلے گا؟